بنگلورو، 20؍ مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ بھگود گیتا اسکولی نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر جمعہ کو ہی گجرات میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہمارے وزیر تعلیم نصاب میں بھگود گیتا کی شمولیت کی بات کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں محکمہ تعلیم سے معلومات حاصل کرکے فیصلہ کیا جائے گا۔“ اس سوال پر کہ کیا بھگود گیتا اخلاقیات کی تعلیم دے گی تو انہوں نے فوری جواب دیا کہ اگر بھگود گیتا نہیں تو پھر کون سا صحیفہ بچوں کو اخلاقیات سکھاسکتا ہے۔ اس مسابقی دور میں بچوں کو اخلاقیات کی تعلیم ضروری ہے۔
انہوں نے اس ضمن میں غیرضروری الجھن نہ پیدا کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھگود گیتا کو نصاب کا حصہ بنایا جائے گا تو اس سے بچے ذہین ہوں گے۔“ واضح رہے کہ کل ریاستی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم بی سی ناگیش نے کہا تھا کہ حکومت‘ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل ماہرین تعلیم سے تبادلہ خیال کرے گی۔ ناگیش نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ گجرات میں انہوں نے (بی جے پی حکومت) تین تا چار مرحلوں میں اخلاقیات کو متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے بھگود گیتا کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ یہی بات آج میرے علم میں آئی۔
اخلاقیات کو متعارف کرانے سے متعلق وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی سے تبادلہ خیال کے بعد ہی ہم فیصلہ کریں گے۔“ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ بچوں میں تہذیبی اقدار ختم ہورہی ہیں وزیر نے کہا کہ کئی لوگوں نے اخلاقیات کو متعارف کرانے کا مطالبہ کیاہے۔ ان کے مطابق پہلے ہر ہفتہ اخلاقیات کی ایک جماعت ہوا کرتی تھی جس میں رامائن اور مہا بھارت کا مواد پڑھایا جاتا تھا۔ ناگیش نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں اخلاقیات کو متعارف کرانے سے متعلق چیف منسٹر سے مشورہ لیں گے۔
اگر ہم آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اخلاقیات کے مواد اور جماعت کے دوارنیہ کے تعلق سے ماہرین تعلیم سے مشاورت کریں گے۔“ ناگیش نے نشاندہی کی کہ بڑی بڑی ہستیاں‘ بشمول مہاتما گاندھی بھگود گیتا، رامائن اور مہابھارت سے تحریک حاصل کرتی تھیں۔ مہاتما گاندھی بھی اپنی پرورش کے لیے ہندو قصوں رامائن اور مہابھارت کو سہرا دیتے تھے جو ان کی ماں انہیں سناتی تھی۔ جب وہ بڑے ہوئے، ڈرامہ راجہ ہریش چندر نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔“